0
Assalam-o-Alaikum! Muntazir-e-Lafz ke doston. Kabhi kabhi jis insan pe hum andhon ki tarah bharosa karte hain, wahi hamari zindagi ki sab se badi tabahi ka naksha khinch raha hota hai. Aaj ki ghazal isi dard-bhari haqiqat ke naam.
مکمل غزل
وہ جو مِری ہر اک سانس کا حساب رکھتی تھی
آج غیر کی بانہوں میں مِرے عیب لکھتی ہے
ہم نے تو اندھوں کی طرح اس پہ بھروسہ کیا
مگر وہ ظالم مِری بربادی کا اسکرپٹ لکھتی ہے
بڑی ماہر اداکارہ نکلی وہ معصوم صورت والی
دل مِرا کچل کر اب نئے خوابوں کی لسٹ لکھتی ہے
وہ جو مِری ایک آہ پہ تڑپ اٹھتی تھی کبھی
آج مِری لاش پہ وہ اپنی جیت کی ہسٹری لکھتی ہے
اب "منتظر" نہ رہو اس بے حیا کی واپسی کے
وہ تو زہر تھی، جو اب کسی اور کی تقدیر لکھتی ہے
آج غیر کی بانہوں میں مِرے عیب لکھتی ہے
ہم نے تو اندھوں کی طرح اس پہ بھروسہ کیا
مگر وہ ظالم مِری بربادی کا اسکرپٹ لکھتی ہے
بڑی ماہر اداکارہ نکلی وہ معصوم صورت والی
دل مِرا کچل کر اب نئے خوابوں کی لسٹ لکھتی ہے
وہ جو مِری ایک آہ پہ تڑپ اٹھتی تھی کبھی
آج مِری لاش پہ وہ اپنی جیت کی ہسٹری لکھتی ہے
اب "منتظر" نہ رہو اس بے حیا کی واپسی کے
وہ تو زہر تھی، جو اب کسی اور کی تقدیر لکھتی ہے
غزل کی تفصیل (Details)
شاعر (Poet):
یہ پردرد کلام "منتظرِ لفظ" (Muntazir-e-Lafz) کی خصوصی تحریر ہے۔
مرکزی خیال:
اس غزل میں محبت کے نام پر ہونے والی منصوبہ بندی اور دھوکے کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ کس طرح محبوب نے اس کی زندگی کو ایک تماشہ بنا کر اپنی جیت کی تاریخ لکھی۔
© 2026 Muntazir-e-Lafz. All Rights Reserved.
Content theft is strictly prohibited. Original work by Muntazir.
Content theft is strictly prohibited. Original work by Muntazir.
Rozana Nayee Shayari Ke Liye Humara Channel Join Karein!
.webp)