Assalam-o-Alaikum! Muntazir-e-Lafz ke doston. Kabhi kabhi jis insan ki baaton mein humein sab se zyada mithaas nazar aati hai, wahi hamari zindagi ka sab se kadwa sach ban jata hai. Aaj ki ghazal isi talkh haqiqat ke naam hai.
مکمل غزل
جسے اپنا سمجھا تھا، وہ غیروں کی کٹھ پتلی نکلی
ہم نے تو دل کی زمین اس کے نام کر دی تھی
مگر وہ ظالم تو مِرے ارمانوں کی قاتلہ نکلی
وہ جو معصوم بن کر مِرے خوابوں میں بستی تھی
آج وہ مِری بربادی کا ہنستا ہوا چہرہ نکلی
بڑی عیار تھی وہ حیا کے لبادے میں چھپی
جس کی ہر اک قسم محض اک جھوٹی کہانی نکلی
اب کس کے لیے جئیں ہم "منتظر" اس دنیا میں
جس کے لیے جیتے تھے، وہی مِری موت کی وجہ نکلی
غزل کی تفصیل (Details)
شاعر (Poet):
یہ پردرد کلام "منتظرِ لفظ" (Muntazir-e-Lafz) کی خصوصی تحریر ہے۔
مرکزی خیال:
اس غزل میں منافقت اور دھوکے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ کس طرح ایک انسان معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر دوسرے کے جذبات سے کھیلتا ہے اور آخر میں وہی انسان بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔
توضیح:
لفظ "کٹھ پتلی" کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ محبوب کی اپنی کوئی وفا نہیں تھی، بلکہ وہ غیروں کے اشاروں پر ناچ کر شاعر کا دل دکھا رہا تھا۔
Content theft is strictly prohibited. Original work by Muntazir.
Hamari ye koshish aapko kaisi lagi? Comment box mein apni raye ka izhaar zaroor karein.
Rozana Nayee Shayari Ke Liye Humara Channel Join Karein!